فضائے شب میں ستارے ہزار گزرے ہیں

معین احسن جذبی

فضائے شب میں ستارے ہزار گزرے ہیں

معین احسن جذبی

MORE BYمعین احسن جذبی

    فضائے شب میں ستارے ہزار گزرے ہیں

    یہ آسماں سے دلوں کے غبار گزرے ہیں

    مہک اٹھے ہیں در و بام و کوچہ و بازار

    جہاں جہاں سے ترے بادہ خوار گزرے ہیں

    مزاج پوچھتے پھرتے ہیں ذرے ذرے کا

    دلوں کی راہ سے کچھ خاکسار گزرے ہیں

    کلی نے بڑھ کے پکارا گلوں نے پیار کیا

    کبھی چمن سے جو سینہ فگار گزرے ہیں

    مجھے دکھاؤ نہ خون جمال لالۂ و گل

    مری نظر سے یہ نقش و نگار گزرے ہیں

    بہا سکا نہ انہیں وقت کا بھی سیل رواں

    وہ چند لمحے جو اس دل پہ بار گزرے ہیں

    ہماری راہ میں جذبیؔ پہاڑ آئے پہ ہم

    مثال ابر سر کوہسار گزرے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے