گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے

رئیس فروغ

گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے

رئیس فروغ

MORE BYرئیس فروغ

    گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے

    ہنگامے سے سناٹے تک اپنا حال تماشا ہے

    بوجھل آنکھیں کب تک آخر نیند کے وار بچائیں گی

    پھر وہی سب کچھ دیکھنا ہوگا صبح سے جو کچھ دیکھا ہے

    دھوپ مسافر چھاؤں مسافر آئے کوئی کوئی جائے

    گھر میں بیٹھا سوچ رہا ہوں آنگن ہے یا رستہ ہے

    آدھی عمر کے پس منظر میں شانہ بہ شانہ گام بہ گام

    تو ہے کہ تیری پرچھائیں ہے میں ہوں کہ میرا سایہ ہے

    ہم ساحل کی سرد ہوا میں خوابوں سے الجھے ہیں فروغؔ

    اور ہمارے نام کا دریا صحرا صحرا بہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے