گلا نہیں جو وہ بیگانہ وار گزرے ہیں

جمیل الدین عالی

گلا نہیں جو وہ بیگانہ وار گزرے ہیں

جمیل الدین عالی

MORE BYجمیل الدین عالی

    گلا نہیں جو وہ بیگانہ وار گزرے ہیں

    ہم ایسے اہل سخن بے شمار گزرے ہیں

    ترس نہ کھاؤ مری شدت تباہی پر

    کہ عمر بھر یہی لیل و نہار گزرے ہیں

    تمام عمر رہا خوف نا پذیرائی

    جدھر سے گزرے ہیں دیوانہ وار گزرے ہیں

    ہمیں سے تذکرۂ قحط عاشقاں توبہ

    ہمیں تو کل ترے کوچے سے یار گزرے ہیں

    رہین وضع بزرگاں ہے اپنا دل یعنی

    ترے ہی شہر میں تجھ سے ہزار گزرے ہیں

    ہمارا نام بھی رکھیے فسانہ خوانوں میں

    کہ ہم بھی اپنے سوانح نگار گزرے ہیں

    ہم اپنے جوش تمنا میں بھول بیٹھے تھے

    کہ ہم سے اور بھی امیدوار گزرے ہیں

    اس انجمن میں تجھے کون پوچھتا عالیؔ

    ہزار تجھ سے غریب الدیار گزرے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY