گری جو برق چمن کو تجلیاں بھی ملیں
گری جو برق چمن کو تجلیاں بھی ملیں
اور اس کے ساتھ پرندوں کی بوٹیاں بھی ملیں
وہ جس مکاں سے ملی کوتوال شہر کی لاش
وہیں سے ٹوٹی ہوئی چند چوڑیاں بھی ملیں
نکالیں بچوں کی لاشیں جو ہم نے ملبے سے
نہ صرف بستے ملے بلکہ تختیاں بھی ملیں
زبانیں کاٹ کے اس نے جہاں چھپا دی تھیں
وہاں سے اہل قلم کی کچھ انگلیاں بھی ملیں
یہ اور بات بری کر دیا گیا قاتل
اگرچہ قتل کی واضح نشانیاں بھی ملیں
کہ جیسے قاف کی وادی میں آ گئے بیدلؔ
مسافرت میں ہمیں ایسی بستیاں بھی ملیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.