گلوں کے چہرۂ رنگیں پہ وہ نکھار نہیں

فیضی نظام پوری

گلوں کے چہرۂ رنگیں پہ وہ نکھار نہیں

فیضی نظام پوری

MORE BYفیضی نظام پوری

    گلوں کے چہرۂ رنگیں پہ وہ نکھار نہیں

    بہار آئی مگر عالم‌ بہار نہیں

    جو ہاتھ آتا ہے دامن تو چھوڑ دیتا ہوں

    جنوں نواز ابھی موسم بہار نہیں

    کسی کی یاد کا عالم نہ پوچھئے مجھ سے

    کبھی قرار ہے دل کو کبھی قرار نہیں

    یہ بانکپن یہ ادا یہ شباب کا عالم

    تم آ گئے تو کسی کا اب انتظار نہیں

    بہار پر بھی خزاں ہی کا رنگ غالب ہے

    ہوا زمانے کی گلشن کو سازگار نہیں

    ہمارے سامنے وہ ہیں کہیں یہ خواب نہ ہو

    اب اپنی آنکھوں پہ بھی ہم کو اعتبار نہیں

    خود آ گئے ہیں سمٹ کر نگاہ میں جلوے

    وصال دوست ہے یہ رنج انتظار نہیں

    مرا مذاق اڑاتا ہے آئینہ لیکن

    مری حقیقت غم اس پہ آشکار نہیں

    ہماری آبلہ پائی کا فیض کیا کہئے

    وہ کون سا ہے بیاباں جو لالہ زار نہیں

    بتوں کو پوج رہا ہے ترے تصور میں

    گناہ کر کے بھی فیضیؔ گناہ گار نہیں

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY