گلوں کو چھو کے شمیم دعا نہیں آئی

ادا جعفری

گلوں کو چھو کے شمیم دعا نہیں آئی

ادا جعفری

MORE BYادا جعفری

    گلوں کو چھو کے شمیم دعا نہیں آئی

    کھلا ہوا تھا دریچہ صبا نہیں آئی

    ہوائے دشت ابھی تو جنوں کا موسم تھا

    کہاں تھے ہم تری آواز پا نہیں آئی

    ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہوگا

    ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی

    ہم اتنی دور کہاں تھے کہ پھر پلٹ نہ سکیں

    سواد شہر سے کوئی صدا نہیں آئی

    سنا ہے دل بھی نگر تھا رسا بسا بھی تھا

    جلا تو آنچ بھی اہل وفا نہیں آئی

    نہ جانے قافلے گزرے کہ ہے قیام ابھی

    ابھی چراغ بجھانے ہوا نہیں آئی

    بس ایک بار منایا تھا جشن محرومی

    پھر اس کے بعد کوئی ابتلا نہیں آئی

    ہتھیلیوں کے گلابوں سے خون رستا رہا

    مگر وہ شوخیٔ رنگ حنا نہیں آئی

    غیور دل سے نہ مانگی گئی مراد اداؔ

    برسنے آپ ہی کالی گھٹا نہیں آئی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY