حال دل حال جہاں جب بھی سنایا اس نے
حال دل حال جہاں جب بھی سنایا اس نے
مجھ سے وحشی کو بھی یک لخت رلایا اس نے
اس کی تصویر کا اک دوسرا رخ آیا نظر
کرب کا آئنہ جب مجھ کو دکھایا اس نے
قصۂ رنج و الم اپنا سنانے کے لئے
ایک ویران حویلی میں بلایا اس نے
لاکھ تعویذ سے بہتر ہے کہیں ماں کی دعا
مجھ کو پردیس میں احساس دلایا اس نے
شاخ امید پہ کھلتے ہیں فقط درد کے پھول
کیسا پودا مرے آنگن میں لگایا اس نے
ہم نے بدنامؔ محبت کو لکھا لفظ عظیم
بے سبب کفر کا الزام لگایا اس نے
- مطبع : بسمل عارفی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.