حال دنیا اور دنیا کا خرابہ دیکھ کر
حال دنیا اور دنیا کا خرابہ دیکھ کر
دل بہت روتا ہے اب اخبار تازہ دیکھ کر
آپ بیٹھے ہیں ابھی تک سامنے تصویر کے
ہم پلٹ آئے کہاں سے اور کیا کیا دیکھ کر
روز ہوتا ہے تماشہ کوئی عبرت کے لئے
تم نہ بن جانا تماشہ وہ تماشا دیکھ کر
ہلکی ہلکی مسکراہٹ تھی لب نادار پر
اس امیر شہر کے ہاتھوں میں کاسہ دیکھ کر
جب ملکؔ لوٹا سفر سے غم کا کتنا بوجھ تھا
ہو گیا دکھ دور ماں کو مسکراتا دیکھ کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.