ہے مفت دل کی قیمت اگر اک نظر ملے

مفتی صدرالدین آزردہ

ہے مفت دل کی قیمت اگر اک نظر ملے

مفتی صدرالدین آزردہ

MORE BYمفتی صدرالدین آزردہ

    ہے مفت دل کی قیمت اگر اک نظر ملے

    یہ وہ متاع ہے کہ نہ لیں مفت اگر ملے

    انصاف کر کہ لاؤں میں پھر کون سا وہ دن

    محشر کے روز بھی نہ جو داد جگر ملے

    پروانہ وار ہے حد پرواز شعلہ تک

    جلنے ہی کے لیے مجھے یہ بال و پر ملے

    آنے سے خط کے جاتے رہے وہ بگاڑ سب

    بن آئی اب تو حضرت دل لو خضر ملے

    کیا شکر کا مقام ہے مرنے کی جاہے دل

    کچھ مضطرب سے آج وہ بیرون در ملے

    عالم خراب ہے نہ نکلنے سے آپ کے

    نکلو تو دیکھو خاک میں کیا گھر کے گھر ملے

    ہے شام ہجر آج او ظالم او فلک

    گردش وہ کر کہ شام سے آ کر سحر ملے

    گو پاس ہو پہ چین تو ہے اس بگاڑ میں

    کیا لطف تھا لڑے وہ ادھر اور ادھر ملے

    دل نے ملا دیں خاک میں سب وضع داریاں

    جوں جوں رکے وہ ملنے سے ہم بیشتر ملے

    ٹوٹے یہ بخیہ زخم کا ہمدم کہیں سے لا

    خنجر ملے کٹار ملے نیشتر ملے

    تھا اصل میں مراد ڈبونا جہان کا

    قابل سمجھ کے گویا ہمیں چشم تر ملے

    اس کی گلی میں لے گئے آزردہؔ کو اسے

    دی تھی دعا یہ کس نے کہ جنت میں گھر ملے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY