ہے نیند ابھی آنکھ میں پل بھر میں نہیں ہے

عاصم واسطی

ہے نیند ابھی آنکھ میں پل بھر میں نہیں ہے

عاصم واسطی

MORE BYعاصم واسطی

    ہے نیند ابھی آنکھ میں پل بھر میں نہیں ہے

    کروٹ کوئی آرام کی بستر میں نہیں ہے

    ساحل پہ جلا دے جو پلٹنے کا وسیلہ

    اب ایسا جیالا مرے لشکر میں نہیں ہے

    پھیلاؤ ہوا ہے مرے ادراک سے پیدا

    وسعت مرے اندر ہے سمندر میں نہیں ہے

    سیکھا نہ دعاؤں میں قناعت کا سلیقہ

    وہ مانگ رہا ہوں جو مقدر میں نہیں ہے

    رکھ اس پہ نظر جو کہیں ظاہر میں ہے پنہاں

    وہ بھی تو کبھی دیکھ جو منظر میں نہیں ہے

    یوں دھوپ نے اب زاویہ بدلا ہے کہ عاصمؔ

    سایہ بھی مرا میرے برابر میں نہیں ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہے نیند ابھی آنکھ میں پل بھر میں نہیں ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY