ہم نے جلتے ہوئے خیموں کی وہ شامیں رکھ دیں

ناظر وحید

ہم نے جلتے ہوئے خیموں کی وہ شامیں رکھ دیں

ناظر وحید

MORE BY ناظر وحید

    ہم نے جلتے ہوئے خیموں کی وہ شامیں رکھ دیں

    شعر میں لفظ رکھے لفظ میں چیخیں رکھ دیں

    میں نے بھی اس کو دیا پہلی ملاقات میں دل

    میرے دامن میں بھی اس نے مری غزلیں رکھ دیں

    یوں لگا آنکھ بچانے پہ جھپکتی ہے پلک

    اسی تصویر پہ میں نے بھی نگاہیں رکھ دیں

    روشنی کے ہر اک امکان پہ ڈالا پردا

    ایک لڑکی نے مری سوچ پہ زلفیں رکھ دیں

    پھر اٹھا یاد کے آنگن سے اداسی کا دھواں

    کس نے طاقوں میں جلا کر مری شامیں رکھ دیں

    عشق اتنا تھا کہ محفوظ کہاں رکھتے ہم

    اور ماں باپ نے بستے میں کتابیں رکھ دیں

    پیش جب کرنے لگے سب ترے جلووں کو خراج

    ہم نے بھی لا کے وہاں طشت میں آنکھیں رکھ دیں

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY