ہم سا دیوانہ کہاں مل پائے گا اس دہر میں

انجم لدھیانوی

ہم سا دیوانہ کہاں مل پائے گا اس دہر میں

انجم لدھیانوی

MORE BY انجم لدھیانوی

    ہم سا دیوانہ کہاں مل پائے گا اس دہر میں

    گھر کیا تعمیر جس نے دیمکوں کے شہر میں

    خودکشی کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں ہم

    کون امرت گھول دیتا ہے ہمارے زہر میں

    کس کو ہے مرنے کی فرصت سب یہاں مصروف ہیں

    موت تو بے کار میں آئی ہے ایسے شہر میں

    ٹوٹی کشتی کی طرح ہیں وقت کے ساحل پہ ہم

    کیا زمانہ تھا بہا کرتے تھے اپنی لہر میں

    ایک ویرانی سی انجم رہ گئی آنکھوں میں اب

    خواب سارے بہہ گئے ہیں آنسوؤں کی نہر میں

    مآخذ:

    • کتاب : Lafz Magazine-01 Dec-10 to 28 Feb-11

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY