ہماری ذات میں بستے سبھی ہیں

عبید حارث

ہماری ذات میں بستے سبھی ہیں

عبید حارث

MORE BYعبید حارث

    ہماری ذات میں بستے سبھی ہیں

    ہم اچھے ہیں تو پھر اچھے سبھی ہیں

    یقیں کیسے کریں وعدے پہ تیرے

    یہی وعدہ ہے جو کرتے سبھی ہیں

    دکھائی کیوں نہیں دیتا کسی کو

    خدا کی کھوج میں نکلے سبھی ہیں

    مرے اندر فقط قطرہ نہیں ہے

    سمندر جھیل اور جھرنے سبھی ہیں

    زمیں پر آئے گا وہ آسماں سے

    نظارہ دیکھنے ٹھہرے سبھی ہیں

    چلی تھی اک ہوا کچھ دیر پہلے

    اسی کے خوف سے سہمے سبھی ہیں

    سبق لیتے نہیں ہم کیوں کسی سے

    ہمارے سامنے قصے سبھی ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Atraaf (Pg. 84)
    • Author : Obaid Haris
    • مطبع : National Human For Needful Foundation, Nagpur (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے