ہر ایک بات وہ میرے خلاف کرتا ہے
ہر ایک بات وہ میرے خلاف کرتا ہے
مباحثے میں مگر اعتراف کرتا ہے
اسی کے چہرے پہ گرد و غبار ہے دیکھو
ہزار بار جو آئینہ صاف کرتا ہے
سمندروں کی ہے رفتار کا پتہ مجھ کو
وہ پتھروں کے جگر میں شگاف کرتا ہے
کسی کی شان میں کرتا ہے جو بھی گستاخی
اسی کو آج زمانہ معاف کرتا ہے
اسی کے نام لقب جاہلوں کے لگتے ہیں
جو گفتگو میں فقط لام قاف کرتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.