ہر گام پہ حالات سے اک نقش بنا ہے

عارج میر

ہر گام پہ حالات سے اک نقش بنا ہے

عارج میر

MORE BYعارج میر

    ہر گام پہ حالات سے اک نقش بنا ہے

    احساس مرا چاروں طرف پھیل گیا ہے

    میں بھی ہوں تہی دست خریداروں کی صف میں

    بستی میں مری مصر کا بازار لگا ہے

    چاہے گا بھلا کون ہو دیواروں کا قیدی

    تقدیر مگر بیر ہواؤں سے پڑا ہے

    برتے ہوئے الفاظ مرے شعر نہ چھوئیں

    حالات نئے ہیں مرا احساس نیا ہے

    موجیں مرے پاؤں سے دبی ریت نہ لے جائیں

    ارمان کے ساحل پہ کوئی سوچ رہا ہے

    ہر موڑ پہ میں خود سے ملا ہاتھ پسارے

    میں نے ہی مری سوچ پہ ہر وار کیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY