ہر کوئی اس کا خریدار ہوا چاہتا ہے

منور خان غافل

ہر کوئی اس کا خریدار ہوا چاہتا ہے

منور خان غافل

MORE BY منور خان غافل

    ہر کوئی اس کا خریدار ہوا چاہتا ہے

    گرم پھر حسن کا بازار ہوا چاہتا ہے

    دیکھ لینا غم معشوق میں کڑھتے کڑھتے

    کچھ نہ کچھ اب مجھے آزار ہوا چاہتا ہے

    آنکھ للچائی ہوئی پڑتی ہے جس پر میری

    عشق اس پر مرا اظہار ہوا چاہتا ہے

    کہہ دو اس پردہ نشیں سے تری خاطر کوئی

    آج رسوا سر بازار ہوا چاہتا ہے

    پان کھا کھا کے لب بام پہ وہ آنے لگا

    خوں ہمارا پس دیوار ہوا چاہتا ہے

    کوچۂ یار میں جاتا ہے عبث تو غافلؔ

    کیوں مصیبت میں گرفتار ہوا چاہتا ہے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY