Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر موڑ پر فریب ہی کھانا پڑا مجھے

عادل شاہ

ہر موڑ پر فریب ہی کھانا پڑا مجھے

عادل شاہ

MORE BYعادل شاہ

    ہر موڑ پر فریب ہی کھانا پڑا مجھے

    سچ بولنے کا بوجھ اٹھانا پڑا مجھے

    قصہ تمہاری یاد کا جب بھی چھڑا کہیں

    محفل سے اٹھ کے دور ہی جانا پڑا مجھے

    وہ خواب جس کی کوئی بھی تعبیر ہی نہ تھی

    بوجھ اس کا عمر بھر ہی اٹھانا پڑا مجھے

    اک نام تھا جو دل کی لکیروں میں قید تھا

    اپنے ہی ہاتھوں اس کو مٹانا پڑا مجھے

    کچھ ایسے بھی مقام ملے راہ عشق میں

    پتھر کی طرح خود کو بنانا پڑا مجھے

    پوچھا کسی نے ہنس کے جو بربادی کا سبب

    اپنا ہی نام سب کو بتانا پڑا مجھے

    میں کانچ کا مکان تھا پتھر کے شہر میں

    ہر زخم اپنے دل میں چھپانا پڑا مجھے

    اپنے ہی عکس سے مجھے وحشت سی ہو گئی

    آئینہ اپنے گھر سے ہٹانا پڑا مجھے

    عادلؔ گناہگار تھا شرمندہ ہو گیا

    سجدوں میں اپنے رب کو منانا پڑا مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے