ہر موڑ پر فریب ہی کھانا پڑا مجھے
ہر موڑ پر فریب ہی کھانا پڑا مجھے
سچ بولنے کا بوجھ اٹھانا پڑا مجھے
قصہ تمہاری یاد کا جب بھی چھڑا کہیں
محفل سے اٹھ کے دور ہی جانا پڑا مجھے
وہ خواب جس کی کوئی بھی تعبیر ہی نہ تھی
بوجھ اس کا عمر بھر ہی اٹھانا پڑا مجھے
اک نام تھا جو دل کی لکیروں میں قید تھا
اپنے ہی ہاتھوں اس کو مٹانا پڑا مجھے
کچھ ایسے بھی مقام ملے راہ عشق میں
پتھر کی طرح خود کو بنانا پڑا مجھے
پوچھا کسی نے ہنس کے جو بربادی کا سبب
اپنا ہی نام سب کو بتانا پڑا مجھے
میں کانچ کا مکان تھا پتھر کے شہر میں
ہر زخم اپنے دل میں چھپانا پڑا مجھے
اپنے ہی عکس سے مجھے وحشت سی ہو گئی
آئینہ اپنے گھر سے ہٹانا پڑا مجھے
عادلؔ گناہگار تھا شرمندہ ہو گیا
سجدوں میں اپنے رب کو منانا پڑا مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.