ہر طرف نالہ و فریاد کے منظر دیکھیں

عبید حارث

ہر طرف نالہ و فریاد کے منظر دیکھیں

عبید حارث

MORE BYعبید حارث

    ہر طرف نالہ و فریاد کے منظر دیکھیں

    تجھ کو دیکھیں کہ ترا شہر ستم گر دیکھیں

    دور سے وہ نظر آئے گا بس اک سائے سا

    اس کو دیکھیں تو ذرا پاس بلا کر دیکھیں

    چاند سورج نہ ستارے ہیں ہمارے بس میں

    ایک مٹی کا دیا ہے سو جلا کر دیکھیں

    ہم بدل سکتے ہیں خود کو یہ بڑی بات نہیں

    شرط اتنی ہے کہ باہر نہیں اندر دیکھیں

    موم سا اس کا بدن ہے یہی کہتے ہیں سب

    جی میں آتا ہے چلو آج اسے چھو کر دیکھیں

    آج اخبار میں آئی ہے غزل حارثؔ کی

    آدمی خوب ہے کیسا ہے سخنور دیکھیں

    مأخذ :
    • کتاب : Atraaf (Pg. 25)
    • Author : Obaid Haris
    • مطبع : National Human For Needful Foundation, Nagpur (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے