حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیں

اکبر الہ آبادی

حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیں

اکبر الہ آبادی

MORE BY اکبر الہ آبادی

    حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیں

    تمہارے معتقد گبرو مسلماں ہوتے جاتے ہیں

    الگ سب سے نظر نیچی خرام آہستہ آہستہ

    وہ مجھ کو دفن کر کے اب پشیماں ہوتے جاتے ہیں

    سوا طفلی سے بھی ہیں بھولی باتیں اب جوانی میں

    قیامت ہے کہ دن پر دن وہ ناداں ہوتے جاتے ہیں

    کہاں سے لاؤں گا خون جگر ان کے کھلانے کو

    ہزاروں طرح کے غم دل کے مہماں ہوتے جاتے ہیں

    خرابی خانہ ہائے عیش کی ہے دور گردوں میں

    جو باقی رہ گئے ہیں وہ بھی ویراں ہوتے جاتے ہیں

    بیاں میں کیا کروں دل کھول کر شوق شہادت کو

    ابھی سے آپ تو شمشیر عریاں ہوتے جاتے ہیں

    غضب کی یاد میں عیاریاں واللہ تم کو بھی

    غرض قائل تمہارے ہم تو اے جاں ہوتے جاتے ہیں

    ادھر ہم سے بھی باتیں آپ کرتے ہیں لگاوٹ کی

    ادھر غیروں سے بھی کچھ عہد و پیماں ہوتے جاتے ہیں

    مآخذ:

    • Book: Kulliyat-e-Akbar (Pg. 103)
    • Author: Akbar Allahabadi
    • مطبع: Farid Book Depot

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites