ہوا سے ربط ذرا سوچ کر بنانا تھا

بابر علی اسد

ہوا سے ربط ذرا سوچ کر بنانا تھا

بابر علی اسد

MORE BYبابر علی اسد

    ہوا سے ربط ذرا سوچ کر بنانا تھا

    ہمیں زمیں پہ اترنا تھا گھر بنانا تھا

    خوشی بنانی تھی پہلے کسی تعلق کی

    پھر اس خوشی کو بچانے کا ڈر بنانا تھا

    ہماری آنکھ کو اب تک سمجھ نہیں آئی

    کہ پہلے اشک یا پہلے کہر بنانا تھا

    ارے یہ عشق بھی تو منچلے کا سودا ہے

    ہمارے بس میں جو ہوتا کدھر بنانا تھا

    ہوا تو روز سناتی تھی دھوپ روزن سے

    مگر ہمیں یہاں سورج سا در بنانا تھا

    سنو یہ عیب کسی رنگ سے نہیں چھپنے

    بس ایک حل تھا ہمیں توڑ کر بنانا تھا

    معاف کرنا تجھے کھل کے لکھ نہیں پائے

    ہمیں یہ قصہ ذرا مختصر بنانا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY