ہواؤں میں تپش ہے لو کا موسم ہے
ہواؤں میں تپش ہے لو کا موسم ہے
ترے رخسار میں جادو کا موسم ہے
ستارے سر جھکائے پھر رہے ہیں اب
سنا ہے شہر میں جگنو کا موسم ہے
قلم چھینا گیا بچوں کے ہاتھوں سے
یہ کس نے کہہ دیا چاقو کا موسم ہے
سیاست ہے سیاست ہے سیاست ہے
محبت کیجئے خوشبو کا موسم ہے
حویلی پر ہوا آسیب کا قبضہ
مگر محلوں میں بھی ہو ہو کا موسم ہے
ضروری ہے کہ سانپوں کا پڑھیں منتر
یہ اب مت دیکھیے بچھو کا موسم ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.