ہزاروں سال چلنے کہ سزا ہے

انجم لدھیانوی

ہزاروں سال چلنے کہ سزا ہے

انجم لدھیانوی

MORE BY انجم لدھیانوی

    ہزاروں سال چلنے کہ سزا ہے

    بتا اے وقت تیرا جرم کیا ہے

    اجالا کام پر ہے پو پھٹے سے

    اندھیرا چین سے سویا ہوا ہے

    ہوا سے لڑ رہے بجھتے دیے نے

    ہمارا ذہن روشن کر دیا ہے

    وہ سورج کے گھرانے سے ہے لیکن

    فلک سے چاندنی برسا رہا ہے

    بدن پر روشنی اوڑھی ہے سب نے

    اندھیرا روح تک پھیلا ہوا ہے

    سنا ہے اور اک بھوکا بھکاری

    خدا کا نام لیتے مر گیا ہے

    وہی ہم ہیں نئی شکلوں میں انجمؔ

    وہی صدیوں پرانا راستہ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY