ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی

بہادر شاہ ظفر

ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی

بہادر شاہ ظفر

MORE BYبہادر شاہ ظفر

    ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی

    آبرو بارے تری ابر بہاری رہ گئی

    آتے آتے اس طرف ان کی سواری رہ گئی

    دل کی دل میں آرزوئے جاں نثاری رہ گئی

    ہم کو خطرہ تھا کہ لوگوں میں تھا چرچا اور کچھ

    بات خط آنے سے تیرے پر ہماری رہ گئی

    ٹکڑے ٹکڑے ہو کے اڑ جائے گا سب سنگ مزار

    دل میں بعد از مرگ کچھ گر بے قراری رہ گئی

    اتنا ملیے خاک میں جو خاک میں ڈھونڈے کوئی

    خاکساری خاک کی گر خاکساری رہ گئی

    آؤ گر آنا ہے کیوں گن گن کے رکھتے ہو قدم

    اور کوئی دم کی ہے یاں دم شماری رہ گئی

    ہو گیا جس دن سے اپنے دل پر اس کو اختیار

    اختیار اپنا گیا بے اختیاری رہ گئی

    جب قدم اس کافر بدکیش کی جانب بڑھے

    دور پہنچے سو قدم پرہیزگاری رہ گئی

    کھینچتے ہی تیغ ادا کے دم ہوا اپنا ہوا

    آہ دل میں آرزوئے زخم کاری رہ گئی

    اور تو غم خوار سارے کر چکے غم خوارگی

    اب فقط ہے ایک غم کی غم گساری رہ گئی

    شکوہ عیاری کا یاروں سے بجا ہے اے ظفرؔ

    اس زمانے میں یہی ہے رسم یاری رہ گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY