ہوئی مدتیں اے دل حزیں نہ پیام ہے نہ سلام ہے

بشیر الدین راز

ہوئی مدتیں اے دل حزیں نہ پیام ہے نہ سلام ہے

بشیر الدین راز

MORE BYبشیر الدین راز

    ہوئی مدتیں اے دل حزیں نہ پیام ہے نہ سلام ہے

    کہ اسی کو کہتے ہیں دوستی کہ اسی کا دوستی نام ہے

    کبھی جائے باد صبا ادھر تو یہ کہنا اس کی بھی ہے خبر

    بجز ایک غم کے سوا ترے جسے کھانا پینا حرام ہے

    تو سکون و صبر مٹائے جا غم عشق مجھ کو رلائے جا

    ہو تڑپ تڑپ کے سحر مجھے یہی درد دل ترا کام ہے

    میں دکھاؤں کس کو یہ حال دل میں سناؤں کس کو یہ حال دل

    کہیں مجھ سے خانہ بدوش کو نہ قرار ہے نہ قیام ہے

    مجھے درد تو نے عطا کیا مرے مہرباں ترا شکریہ

    بنا درد دل ترا زندگی ترے درد دل سے ہی کام ہے

    نہ قرار آئے کسی طرح مرے درد دل تو ترقی کر

    شب غم تڑپتے ہی ہو سحر شب غم تڑپنے سے کام ہے

    یہ کیسی اس کی ہے دوستی یہ بتا تو مجھ کو دل حزیں

    نہیں جس کو دور کا واسطہ اسے دور ہی سے سلام ہے

    وہ نظر بچا کے چلا گیا میں یہ رازؔ کہتا ہی رہ گیا

    ذرا جانے والے یہ بات سن یہ بتا تو کیا ترا نام ہے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY