حسن امکاں رنگ رخ رنگ بدن زد پر رہا

فرید پربتی

حسن امکاں رنگ رخ رنگ بدن زد پر رہا

فرید پربتی

MORE BYفرید پربتی

    حسن امکاں رنگ رخ رنگ بدن زد پر رہا

    کیا بتاؤں میں تجھے کیا کیا سجن زد پر رہا

    عقل والوں پر وہاں کھلتے ہیں از خود راستے

    جس گلی میں اک مرا دیوانہ پن زد پر رہا

    ہر سخن کو تولتا ہوں بولتا ہوں منہ سے پھر

    جانے کیوں پھر بھی مرا ذوق سخن زد پر رہا

    ہو رہی ہے اس طرح تجدید ہر اک خواب کی

    جو بچا تھا آنکھ میں عکس کہن زد پر رہا

    عشق پر ہونے لگی ہیں تہمتوں کی یورشیں

    حسن بے پروا سے چاک پیرہن زد پر رہا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے