حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا

بخش لائلپوری

حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا

بخش لائلپوری

MORE BYبخش لائلپوری

    حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا

    وہ روشنی تھی کہ کچھ بھی نظر نہیں آیا

    بھٹک رہے ہیں ابھی زیست کے سرابوں میں

    مسافروں کو شعور سفر نہیں آیا

    تمام رات ستارہ شناس روتے رہے

    نظر گنوا دی ستارہ نظر نہیں آیا

    ہزار منتیں کیں واسطے خدا کے دیے

    یہ راہ راست پہ وہ راہ بر نہیں آیا

    زبان شعر پہ مہر سکوت ہے اب تک

    جلال صوت و سخن رنگ پر نہیں آیا

    وہ تک رہے ہیں ازل سے فراز گردوں پر

    نظر کسی کو بھی نجم سحر نہیں آیا

    ہمارے شہر کے ہر سنگ بار سے یہ کہو

    ہماری شاخ شجر پر ثمر نہیں آیا

    ہر ایک موڑ پہ ہم نے بہت صدائیں دیں

    سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

    دیار غیر سے میرا وہ سر پھرا بیٹا

    گیا ہے گھر سے تو پھر لوٹ کر نہیں آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY