اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرا

فروغ حیدرآبادی

اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرا

فروغ حیدرآبادی

MORE BYفروغ حیدرآبادی

    اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرا

    مجھ کو غربت میں نظر آنے لگا گھر تیرا

    نشۂ مے کی بجھی پیاس نہ کچھ بھی افسوس

    نام سنتے تھے بڑا چشمۂ کوثر تیرا

    اپنے پامالیٔ دل کا مجھے افسوس نہیں

    دیکھ ظالم نہ بگڑ جائے کہیں گھر تیرا

    وہ بھی ہیں لوگ جو ہم بزم رہا کرتے تھے

    ہم تو جیتے ہیں فقط نام ہی لے کر تیرا

    جلوۂ طور کو کچھ اس کی نظر سے بھانپا

    جس نے دیکھا ہے جمال‌ رخ انور تیرا

    زندگی اس کی نصیب اس کے ہیں راتیں اس کی

    جس کو ہو جلوۂ دیدار میسر تیرا

    ہم نے کوشش تو بہت کی تھی اسے لانے کی

    اے فروغؔ جگر افگار مقدر تیرا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY