اس تیرگی میں صرف ہمارے ہی پاس ہے
اس تیرگی میں صرف ہمارے ہی پاس ہے
وہ کرب جس پہ شمع ہنر کی اساس ہے
نفرت کے جنگلوں میں مقید نہ کر مجھے
مجھ کو تو صرف پیار کا ماحول راس ہے
ساقی مرے دہن میں سمندر انڈیل دے
برسوں کا اضطراب ہے صدیوں کی پیاس ہے
شاید ملا نہیں وہ دریچہ کھلا ہوا
جھونکا ہوا کا آج بڑا بد حواس ہے
ملتے ہیں اب کرائے کے قاتل گلی گلی
اب زندگی کا مول یہی سو پچاس ہے
بیدلؔ کی ہو قبا کہ فلسطینیوں کی ہو
اس دور کا لباس لہو کا لباس ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.