استادہ ہے جب سامنے دیوار کہوں کیا

اعجاز گل

استادہ ہے جب سامنے دیوار کہوں کیا

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    استادہ ہے جب سامنے دیوار کہوں کیا

    حاصل بھی نہیں روزن درکار کہوں کیا

    لگتا تو ہے کچھ دید کو نادید کے پیچھے

    کھلتا نہیں منظر کوئی اس پار کہوں کیا

    ہوں تنگ ذرا جیب سے اے حسرت اشیا

    شامل تو ہے فہرست میں بازار کہوں کیا

    جس بات کے انکار کا حد درجہ گماں ہے

    وہ بات یقیں کے لئے سو بار کہوں کیا

    میں ان کے جوابات سے اور اہل زمانہ

    ہیں میرے سوالات سے بیزار کہوں کیا

    جس بات پہ تھی بحث ہوئی بحث سے خارج

    اب رہ گئی آپس میں ہے تکرار کہوں کیا

    ہمسائے کی ہمسائے سے پہچان نہیں ہے

    پیوست ہے دیوار میں دیوار کہوں کیا

    غافل نہیں ایسا بھی میں اب اپنی رسد سے

    اس دل میں طلب کا ہے جو انبار کہوں کیا

    گل زار سا کھل اٹھتا ہے خوشبوئے سخن سے

    جادو ہے وہ اس کا دم گفتار کہوں کیا

    ہے رنگ بدن کا لغت رنگ میں ناپید

    لا ثانی ہے قامت میں قد یار کہوں کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY