جانے کس عالم احساس میں کھوئے ہوئے ہیں

ارمان نجمی

جانے کس عالم احساس میں کھوئے ہوئے ہیں

ارمان نجمی

MORE BYارمان نجمی

    جانے کس عالم احساس میں کھوئے ہوئے ہیں

    ہم ہیں وہ لوگ کہ جاگے ہیں نہ سوئے ہوئے ہیں

    اپنے انجام کا دیکھے گا تماشا کبھی وہ

    جیتے جی ہم تو ابھی سے اسے روئے ہوئے ہیں

    داغ مٹتا نہیں کچھ اور نمایاں ہوا ہے

    اپنے ہاتھ آپ نے کس چیز سے دھوئے ہوئے ہیں

    کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ مکافات عمل

    کاٹتے کیوں نہیں جو آپ نے بوئے ہوئے ہیں

    روح اپنی رہی ہے قرب بدن سے سرشار

    ہم فرشتے نہیں دامن کو بھگوئے ہوئے ہیں

    سانس لینے کو بھی اب ان کی طرف دیکھتا ہوں

    نوک نشتر جو رگ جاں میں چبھوئے ہوئے ہیں

    کیا ملا ان سے ہمیں خاک ندامت کے سوا

    ہم بھی کن خوابوں کی تعبیر کو ڈھوئے ہوئے ہیں

    اتنے ناداں بھی نہیں ہم کہ سمجھ بھی نہ سکیں

    آپ لہجے میں جو شیرینی سموئے ہوئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY