جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گا

راغب بدایونی

جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گا

راغب بدایونی

MORE BYراغب بدایونی

    جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گا

    رنگ کے اڑنے سے عشق اس پر عیاں ہو جائے گا

    عیش بزم بے خودی جوش فغاں ہو جائے گا

    ہم کہاں ہوں گے جو راز غم عیاں ہو جائے گا

    دوسرا عالم بنے تو ہو سکے تسکین حسن

    اب ہے جتنا یہ تو صرف امتحاں ہو جائے گا

    تا اجل پہنچائے گی یہ ناتوانی ہجر میں

    ضعف بڑھتے بڑھتے زور ناتواں ہو جائے گا

    میری خاموشی کو ظالم جور بے جا سے نہ چھیڑ

    ورنہ ضبط‌ دل تری ضد سے فغاں ہو جائے گا

    شوق سے غیروں میں جائے میں نہ ہوں گا بد گماں

    خوئے بد سے خود وہ اپنا پاسباں ہو جائے گا

    دل نشیں ہے عالم ذوق اسیری کا خیال

    اب دل صیاد اپنا آشیاں ہو جائے گا

    غم سے میرے گھر میں گنجائش نہیں ہے عیش کی

    نغمہ خواں بھی آئے گا تو نوحہ خواں ہو جائے گا

    موسم باراں میں کیوں ہے دشت کا قصد اے جنوں

    آج کل تو دشت اپنا ہی مکاں ہو جائے گا

    خوبئ گفتار سے سمجھے گا کون اس کا جواب

    حشر سارا محو انداز بیاں ہو جائے گا

    کیا یقیں تھا ہم جو پہنچیں گے وہاں اے جوش اشک

    وہم اپنا بڑھ کے اس کا پاسباں ہو جائے گا

    کہہ سکے گا کچھ بھی اے راغبؔ نہ اس خاموش سے

    بے دہن کے سامنے تو بے زباں ہو جائے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY