جب تلک دل امام تھا ہی نہیں

سحرتاب رومانی

جب تلک دل امام تھا ہی نہیں

سحرتاب رومانی

MORE BYسحرتاب رومانی

    جب تلک دل امام تھا ہی نہیں

    کوئی عالی مقام تھا ہی نہیں

    مستقل ایک بے ثباتی ہے

    کچھ یہاں پر مدام تھا ہی نہیں

    آؤ اس کا خطاب سنتے ہیں

    وہ جو محو کلام تھا ہی نہیں

    چلتے چلتے میں آ گیا ہوں یہاں

    ورنہ تجھ سے تو کام تھا ہی نہیں

    پی رہا تھا میں اس کی آنکھوں سے

    میکدے میں تو جام تھا ہی نہیں

    اپنی اپنی نماز تھی سب کی

    مسجدوں میں امام تھا ہی نہیں

    وہ بھی دل کے پتے پہ آیا ہے

    خط ہمارے جو نام تھا ہی نہیں

    میں مسافر تھا اپنی راہوں کا

    راستوں کا غلام تھا ہی نہیں

    روز جلتا تھا طاق جاں میں سحرؔ

    اور پھر ایک شام تھا ہی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY