جب یاد تری آتی ہے تھمتے نہیں آنسو

انس نبیل

جب یاد تری آتی ہے تھمتے نہیں آنسو

انس نبیل

MORE BYانس نبیل

    جب یاد تری آتی ہے تھمتے نہیں آنسو

    پھر رات بھی ہو جائے تو سوتے نہیں آنسو

    جب خوف خدا سے یہ نکل جائیں تو موتی

    جز آب کے کچھ اور تو ہوتے نہیں آنسو

    رخسار کے رستہ پہ ہی چلتے ہیں یہ سیدھے

    انساں کی طرح رہ سے بھٹکتے نہیں آنسو

    تعظیم میں پلکوں سے اتر جاتے ہیں نیچے

    غم آئیں تو بیٹھے ہوئے رہتے نہیں آنسو

    جب بھی میں بلاتا ہوں چلے آتے ہیں ملنے

    تیری طرح رسوائی سے ڈرتے نہیں آنسو

    کاجل کے بکھرنے سے بنا اور حسیں وہ

    حالانکہ کسی آنکھ میں جچتے نہیں آنسو

    نادان نبیلؔ ان سے تو جل جائے گا کاغذ

    کاغذ کے کسی صفحے پہ لکھتے نہیں آنسو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY