جیسے دیکھا ہے دکھایا بھی نہیں جا سکتا

شہزاد نیر

جیسے دیکھا ہے دکھایا بھی نہیں جا سکتا

شہزاد نیر

MORE BYشہزاد نیر

    جیسے دیکھا ہے دکھایا بھی نہیں جا سکتا

    خواب کا حال سنایا بھی نہیں جا سکتا

    پھینکی جاتی بھی نہیں راہ میں یادیں اس کی

    اور یہ بوجھ اٹھایا بھی نہیں جا سکتا

    عکس کو آنکھ سے تھاما ہے سر آب رواں

    چاند پانی میں بہایا بھی نہیں جا سکتا

    دو کنارے بھی یہ ہوتے تو ملا دیتا میں

    دل کو دنیا سے ملایا بھی نہیں جا سکتا

    ہوتے ہوتے وہ مجھے عشق نگر لے ہی گیا

    میں نے سو بار بتایا بھی نہیں جا سکتا

    اس جگہ رہ کے میں آیا ہوں تخیل والو

    جس جگہ سوچ کا سایا بھی نہیں جا سکتا

    نا مرادی رخ قاتل پہ لکھی رہتی ہے

    خون کا داغ مٹایا بھی نہیں جا سکتا

    حال آئندہ سناتا چلا جاتا لیکن

    ہنسنے والوں کو رلایا بھی نہیں جا سکتا

    ورنہ دن رات میں سر توڑ مشقت کرتا

    کیا کروں پیار کمایا بھی نہیں جا سکتا

    اب میں کیا راہ نکالوں کہ جدائی جائے

    اس سے آیا بھی بلایا بھی نہیں جا سکتا

    دل ہی مسمار کریں اہل محبت نیرؔ

    پورا ماحول تو ڈھایا بھی نہیں جا سکتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY