جلی ہیں درد کی شمعیں مگر اندھیرا ہے

فاروق بخشی

جلی ہیں درد کی شمعیں مگر اندھیرا ہے

فاروق بخشی

MORE BY فاروق بخشی

    جلی ہیں درد کی شمعیں مگر اندھیرا ہے

    کہاں ہو کچھ تو کہو دل بہت اکیلا ہے

    یہ کیسا زہر فضاؤں میں بھر گیا یارو

    ہر ایک آدمی کیوں اس قدر اکیلا ہے

    مرے نصیب میں کب ہے یہ روشنی کا نگر

    مرے لیے تو یہاں ہر طرف اندھیرا ہے

    جلائے رکھنا دیے پیار کے میں آؤں گا

    مجھے تمہاری وفا پر بڑا بھروسہ ہے

    چمک اٹھے مری پلکوں پہ یاد کے جگنو

    یہ کس نے پیار سے پھر آج مجھ کو دیکھا ہے

    کہاں کہاں میں اسے ڈھونڈھتا رہا فاروقؔ

    جو میری روح کی گہرائیوں میں رہتا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Udas Lamhon Ke Mausam (Poetry) (Pg. 84)
    • Author : Farooq Bakhshi
    • مطبع : Modern Publishing House (2003)
    • اشاعت : 2003

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY