جلووں کا ان کے دل کو طلبگار کر دیا

بشیر الدین راز

جلووں کا ان کے دل کو طلبگار کر دیا

بشیر الدین راز

MORE BYبشیر الدین راز

    INTERESTING FACT

    اپریل 1952 مشاعرہ شکوہ آبا

    جلووں کا ان کے دل کو طلبگار کر دیا

    اے شوق کس بلا میں گرفتار کر دیا

    اک ہو گیا اضافہ مری زندگی میں اور

    تم نے جو دل کو مائل آزار کر دیا

    دل کی مجھے خبر ہے نہ دل کو مری خبر

    ملتے ہی آنکھ کیا نگہ یار کر دیا

    دل بستگی کے واسطے دل کو لگایا تھا

    امید حسرتوں نے اک آزار کر دیا

    رکھ لی جنوں نے بات مری ان کے سامنے

    ہر آبلہ سے خار نمودار کر دیا

    ہیں سختیاں بڑھی ہوئی زنداں میں آج کل

    دو گام چلنا بھی مجھے دشوار کر دیا

    یہ کیسا روگ دل کو لگا انتظار کا

    آنکھوں کو ان کا طالب دیدار کر دیا

    کس نے کرم کیا یہ مرے حال زار پر

    اس بے خودیٔ عشق سے ہشیار کر دیا

    میں نے چھپایا لاکھ مگر اشک غم نے آہ

    اے رازؔ راز شوق کا اظہار کر دیا

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY