جواب سارے سوالیہ کر کے آ رہا ہوں
جواب سارے سوالیہ کر کے آ رہا ہوں
میں زندگی سے مکالمہ کر کے آ رہا ہوں
پرند مجھ پر اترنے والے ہیں دھیرے دھیرے
میں سبز پیڑوں سے رابطہ کر کے آ رہا ہوں
تری حویلی میں آنا آسان تو نہیں تھا
چٹان حائل تھی راستہ کر کے آ رہا ہوں
تمام دشمن تو مجھ کو تسلیم کر چکے ہیں
میں دوستوں سے مقابلہ کر کے آ رہا ہوں
میں ایسے پہنچا نہیں ہوں مظہرؔ ابد سے آگے
میں لامکاں سے مصافحہ کر کے آ رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.