جس کو پڑی ہو اپنے گریباں کے تار کی

بیتاب عظیم آبادی

جس کو پڑی ہو اپنے گریباں کے تار کی

بیتاب عظیم آبادی

MORE BYبیتاب عظیم آبادی

    جس کو پڑی ہو اپنے گریباں کے تار کی

    روئے خزاں کو خیر منائے بہار کی

    معراج اس کو کہیے ہمارے غبار کی

    ورنہ یہ خاک اور ہوا کوئے یار کی

    پژمردہ پھول ہوں چمن روزگار کا

    تصویر ہوں دورنگئ لیل و نہار کی

    نیچی نگاہ آڑ میں مژگاں کی الامان

    صیاد جیسے گھات میں بیٹھے شکار کی

    چین جبین یار کی چھریاں وہیں چلیں

    جوں ہی تڑپ بڑھی نگہ‌ انتظار کی

    منہ فق ہے اس طرح مری صبح فراق کا

    جیسے ہو پہلی شام غریب الدیار کی

    بیتابؔ ختم کر گئے استاد نامدار

    جادو نگاریاں قلم سحر کار کی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY