جو ہو سکے تو کبھی اتنی مہربانی کر

اقبال آصف

جو ہو سکے تو کبھی اتنی مہربانی کر

اقبال آصف

MORE BYاقبال آصف

    جو ہو سکے تو کبھی اتنی مہربانی کر

    اڑا کے خاک مری مجھ کو آسمانی کر

    پھر اس کے بعد خدا جانے کب میسر ہوں

    یہ چند لمحے محبت کے جاودانی کر

    بزور تیغ حکومت کیا نہیں کرتے

    جو ہو سکے تو دلوں پر بھی حکمرانی کر

    اے روشنی کے پیمبر کہ اے نقیب نور

    لہو سے اپنے چراغوں کی پاسبانی کر

    میں آئنہ ہوں نہ اترے کہیں ترا چہرہ

    نہ اپنے آپ پہ اترا نہ لن ترانی کر

    میں چل پڑا ہوں قدم سے قدم ملا میرے

    رفاقتوں کے سفر میں نہ آنا کانی کر

    ہمارے لمس سے پڑتی ہے جان مردوں میں

    ہمارے ہاتھ پہ بیعت اے زندگانی کر

    نہ مصلحت کی ترازو میں تول لفظوں کو

    جو دل کہے وہی ہونٹوں سے ترجمانی کر

    نہ یاد کر انہیں آصف وہ پل جو بیت گئے

    یہیں پہ درد بھری ختم وہ کہانی کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے