جو میکدے میں بہکتے ہیں لڑکھڑاتے ہیں

حیات وارثی

جو میکدے میں بہکتے ہیں لڑکھڑاتے ہیں

حیات وارثی

MORE BYحیات وارثی

    جو میکدے میں بہکتے ہیں لڑکھڑاتے ہیں

    مرا خیال ہے وہ تشنگی چھپاتے ہیں

    ذرا سا وقت کے سورج نے رخ جو بدلا ہے

    مرے وجود پہ کچھ سائے مسکراتے ہیں

    دلوں کی سمت پہ لفظوں کے سنگ مت پھینکو

    ذرا سی ٹھیس سے آئینے ٹوٹ جاتے ہیں

    طلسم ذات کی پھیلی ہے تیرگی اتنی

    کہ وسعتوں کے اجالے سمٹتے جاتے ہیں

    ستم ظریفیٔ حالات کا کرشمہ ہے

    بھٹکنے والے مجھے راستے بتاتے ہیں

    جنہیں حیاتؔ شعور حیات حاصل ہے

    فریب دیتے نہیں ہیں فریب کھاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے