جو نہ مل بیٹھا ہو پھر اس سے شکایت کیسی

جاوید منظر

جو نہ مل بیٹھا ہو پھر اس سے شکایت کیسی

جاوید منظر

MORE BYجاوید منظر

    جو نہ مل بیٹھا ہو پھر اس سے شکایت کیسی

    میں اکیلا ہی چلا ہوں تو رفاقت کیسی

    خود تو آئیں گے نہیں اور بلائیں گے ہمیں

    دیکھیے آپ نے ڈالی یہ روایت کیسی

    میں نے چاہا تو بہت ٹوٹ کے چاہا نہ گیا

    یوں بھی ٹوٹی ہے کئی بار قیامت کیسی

    تم نے جینے کا مجھے حوصلہ بخشا ہے تو پھر

    مجھ سے رہتے ہو گریزاں یہ سیاست کیسی

    جب بچھڑنا ہی محبت کا تقاضہ ٹھہرا

    پھر نگاہوں میں مری جاں یہ ندامت کیسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY