جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا

محسن نقوی

جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا

    وہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا

    اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کی

    بچوں کو اپنی بھیک کے پیالے تو دے گیا

    اب میری سوچ سائے کی صورت ہے اس کے گرد

    میں بجھ کے اپنے چاند کو ہالے تو دے گیا

    شاید کہ فصل سنگ زنی کچھ قریب ہے

    وہ کھیلنے کو برف کے گالے تو دے گیا

    اہل طلب پہ اس کے لیے فرض ہے دعا

    خیرات میں وہ چند نوالے تو دے گیا

    محسنؔ اسے قبا کی ضرورت نہ تھی مگر

    دنیا کو روز و شب کے دوشالے تو دے گیا

    مآخذ
    • کتاب : Kulliyat-e-mohsin (Pg. 885)
    • Author : Mohsin Naqvi
    • مطبع : Mavra Publishers (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY