کام ہر زخم نے مرہم کا کیا ہو جیسے

ابو محمد سحر

کام ہر زخم نے مرہم کا کیا ہو جیسے

ابو محمد سحر

MORE BY ابو محمد سحر

    کام ہر زخم نے مرہم کا کیا ہو جیسے

    اب کسی سے کوئی شکوہ نہ گلا ہو جیسے

    عمر بھر عشق کو غم دیدہ نہ رکھے کیوں کر

    حادثہ وہ کہ ابھی کل ہی ہوا ہو جیسے

    ایک مدت ہوئی دیکھا تھا جسے پہلے پہل

    تیرے چہرے میں وہی چہرہ چھپا ہو جیسے

    حسن کے بھید کا پا لینا نہیں ہے آساں

    ہے یہ وہ راز کہ رازوں میں پلا ہو جیسے

    دور تک ایک نگہ جا کے ٹھہر جاتی ہے

    وقت کا فاصلہ کچھ ڈھونڈ رہا ہو جیسے

    یاد ماضی سے یہ افسردہ سی رونق دل میں

    آخر شب کوئی دروازہ کھلا ہو جیسے

    ہزل کو لوگ سحرؔ آج غزل کہتے ہیں

    ذوق شعری پہ برا وقت پڑا ہو جیسے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY