کڑی تھی دھوپ سر چکرا رہا تھا

فیض الامین فیض

کڑی تھی دھوپ سر چکرا رہا تھا

فیض الامین فیض

MORE BYفیض الامین فیض

    کڑی تھی دھوپ سر چکرا رہا تھا

    میں بھوکا تھا بہت گھبرا رہا تھا

    تمہارا شہر کیا تھا کیا بتاؤں

    تماشہ ہر کوئی دکھلا رہا تھا

    تھے اس کے ہاتھ میں کشکول لیکن

    وہ مہر و ماہ کو شرما رہا تھا

    انا کا سانپ میں نے مار ڈالا

    بہت نقصان یہ پہنچا رہا تھا

    امیر شہر سے یہ کون پوچھے

    ستم کیوں مفلسوں پر ڈھا رہا تھا

    لگے ٹھوکر تو خود ہی تم سنبھل جاؤ

    سفر کا تجربہ بتلا رہا تھا

    اکیلی تھی کوئی لڑکی سڑک پر

    بدن جس کا مجھے للچا رہا تھا

    یہ کیسا خواب میں نے فیضؔ دیکھا

    سمندر میری جانب آ رہا تھا

    مآخذ :
    • کتاب : Handwriting File Mail By Salim Saleem

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY