کہنے کو ہو چکا ہوں میں فارغ بہ روزگار

عبدالسلام عاصم

کہنے کو ہو چکا ہوں میں فارغ بہ روزگار

عبدالسلام عاصم

MORE BYعبدالسلام عاصم

    کہنے کو ہو چکا ہوں میں فارغ بہ روزگار

    آلام روزگار سے ممکن نہیں فرار

    جس دل پہ صرف میرا ہی حق ہونا چاہئے

    وہ اب بھی میرے پاس ہے پر وقف انتشار

    کل بھی تھا اور کل بھی رہے گا بہر لحاظ

    راہ سفر کا حصہ چمن زار خار زار

    موسم ہے فصل گل کا مگر دل کے باغ میں

    ہیں ٹہنیاں اداس تو شاخیں ہیں بے بہار

    خازن ہوں نظم و نثر کے سرمائے کا مگر

    ممکن نہیں ہے مجھ سے کتابوں کا کاروبار

    نقد و نظر سے لیتا ہے عاصمؔ بھی شاذ کام

    رکھتا نہیں کبھی کوئی سودا مگر ادھار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY