کیسے دیار کیسے مکانوں میں آ گیا
کیسے دیار کیسے مکانوں میں آ گیا
سوکھے ہوئے درختوں کے سایوں میں آ گیا
جب لام میم نون ردیفوں میں آ گیا
اک مختلف سا ذائقہ غزلوں میں آ گیا
پھر روشنی بکھر گئی تاریکیوں میں آپ
اس کا وہ ہاتھ جب مرے ہاتھوں میں آ گیا
چھونے کی آرزو تھی مری کل تلک جسے
وہ آج خودبخود مری باہوں میں آ گیا
الجھے ہیں اس طرح سے محبت کے جال میں
جیسے کہ کوئی خم تری زلفوں میں آ گیا
مر جاتے اس کے در پہ پٹختے جو اور سر
اچھا ہوا اثر کہ جو آہوں میں آ گیا
ظاہر تھا یہ کہ بول رہا ہے وہ جھوٹ پر
پھر بھی نہ جانے کیسے میں باتوں میں آ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.