کل بھی تلاش رزق میں گزرا تمام دن
کل بھی تلاش رزق میں گزرا تمام دن
اڑتا پھرا فضا میں پرندہ تمام دن
سوچا تھا اپنے سائے کو دیکھوں تو اوڑھ کر
سورج نے مجھ پہ غصہ اتارا تمام دن
تنہائی کا خیال قریب آتا کس لیے
میں اپنا خود شریک سفر تھا تمام دن
وہ لو چلی کہ حبس کو ترجیح دی گئی
کھولا نہیں کسی نے دریچہ تمام دن
تصویر یار پر نہ پڑی غیر کی نظر
سورج کو اپنی جیب میں رکھا تمام دن
بیدلؔ مری زباں مرے ہونٹوں پہ دیکھ کر
روتا پھرا اک ابر کا ٹکڑا تمام دن
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.