کر لیا محفوظ خود کو رائیگاں ہوتے ہوئے

ناظر صدیقی

کر لیا محفوظ خود کو رائیگاں ہوتے ہوئے

ناظر صدیقی

MORE BYناظر صدیقی

    کر لیا محفوظ خود کو رائیگاں ہوتے ہوئے

    میں نے جب دیکھا کسی کو بد گماں ہوتے ہوئے

    مصلحت کوشی مری فطرت میں شامل ہی نہ تھی

    دھوپ میں جھلسا کیا میں سائباں ہوتے ہوئے

    رفتہ رفتہ رونق بازار بڑھتی ہی گئی

    وقت کے چہرے پہ زخموں کے نشاں ہوتے ہوئے

    گر یوں ہی جاری رہا اس کے ستم کا سلسلہ

    ٹوٹ جاؤں گا میں اک دن سخت جاں ہوتے ہوئے

    خشک ہونٹوں کے سہارے مجھ کو پہچانا گیا

    بزم ساقی میں ہجوم تشنگاں ہوتے ہوئے

    اس کے جی میں جو بھی آیا وہ مجھے کہتا رہا

    اور میں خاموش تھا منہ میں زباں ہوتے ہوئے

    دیکھ کر خود اپنی صورت سخت حیرانی ہوئی

    جب میں گزرا آئینوں کے درمیاں ہوتے ہوئے

    محو حیرت ہو کے ناظرؔ دیکھتا ہی رہ گیا

    لمحہ لمحہ اپنی سانسوں کا زیاں ہوتے ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY