کون دیتا رہا صحرا میں صدا میری طرح

شاذ تمکنت

کون دیتا رہا صحرا میں صدا میری طرح

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    کون دیتا رہا صحرا میں صدا میری طرح

    آج تنہا ہوں مگر کوئی تو تھا میری طرح

    میں تری راہ میں پامال ہوا جاتا ہوں

    مٹ نہ جائے ترا نقش کف پا میری طرح

    میں ہی تنہا ہوں فقط تیری بھری دنیا میں

    اور بھی لوگ ہیں کیا میرے خدا میری طرح

    رنگ ارباب رضا پیشہ مبارک ہو تجھے

    کوئی ہوتا ہی نہیں تجھ سے خفا میری طرح

    کس کو حاصل ہو تری چشم سیہ کے آگے

    منصب سلسلۂ جرم و خطا میری طرح

    آشنا کون ہے نقش قدم نکہت کا

    یاد کس کو ہے ترے گھر کا پتا میری طرح

    شاذؔ تارا نہیں ٹوٹا کوئی دل ٹوٹا ہے

    راہ تکتا تھا شب غم کوئی کیا میری طرح

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY