خاک ہو کر بھی کب مٹوں گا میں

آلوک مشرا

خاک ہو کر بھی کب مٹوں گا میں

آلوک مشرا

MORE BY آلوک مشرا

    خاک ہو کر بھی کب مٹوں گا میں

    پھول بن کر یہیں کھلوں گا میں

    تجھ کو آواز بھی میں کیوں دوں گا

    تیرا رستہ بھی کیوں تکوں گا میں

    اک پرانے سے زخم پر اب کے

    کوئی مرہم نیا رکھوں گا میں

    گھیر لیں گی یہ تتلیاں مجھ کو

    خوشبوئیں جیوں رہا کروں گا میں

    خود سے باہر تو کم نکلتا ہوں

    جی میں آیا تو پھر ملوں گا میں

    ورنہ جینا محال کر دے گا

    درد کو اب غزل کروں گا میں

    دھکدھکی سی لگی ہے کیوں جی کو

    اتنی جلدی کہاں مروں گا میں

    سانسیں دیتی رہیں جو چنگاری

    ایک جنگل سا جل اٹھوں گا میں

    تھک گیا ہوں میں اس جزیرے پر

    پھر سمندر کا رخ کروں گا میں

    روح کا یہ لباس بدلوں گا

    بھیس دوجا کوئی دھروں گا میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY